تمہیں اس قدر جو میں پیار دوں کہ زندگی ہی اپنی ہار دوں
شام ہوتے ہی چراغ کو بُھجا دیتا ہوں دل ہی کافی ہے تیری یاد میں جلنے کے لیے
امیر وہ ہے جس کے پاس مخلص اور وفادار دوست ہوں
محبت ہوتی تو سنبھال لیتا کسی طریقے اشک تھا ہو میرا اِس لیے وجود کھا گیا میرا
تو نے دیکھا ہی نہیں کبھی ساتھ مرے چل کے میں ہوں تنہائی کا بھی ساتھ نبھانے والا
کل دیکھ لیا شہر میں اسے ہستا بستا وہ توکہتا تھا بچھڑےگا تو مرجائے گا
شام ہوتے ہی تیری یادوں کی پاگل خوشبو نیند آنکھوں سے سکون دل سے چرا لیتی ہیں

.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
.jpg)
Comments
Post a Comment